ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / راہل گاندھی پر کیس:سپریم کورٹ نے مجرمانہ ہتک عزتی کے معاملے کے عمل پر ہی سوال اٹھائے

راہل گاندھی پر کیس:سپریم کورٹ نے مجرمانہ ہتک عزتی کے معاملے کے عمل پر ہی سوال اٹھائے

Wed, 27 Jul 2016 19:55:57    S.O. News Service

نئی دہلی27جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )سپریم کورٹ نے کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی سے متعلق ایک کیس کی سماعت کرتے ہوئے مجرمانہ ہتک عزتی کے معاملے کے عمل پرہی سوال اٹھائے ہیں۔کورٹ نے اس پورے معاملے کی خامیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مجرمانہ ہتک عزتی کے معاملے میں نہ پولیس ایف آئی آر درج کرتی ہے اور نہ ہی مجسٹریٹ کسی بھی طرح سے پولیس کی کوئی رپورٹ مانگ سکتا ہے اور نہ ہی تحقیقات کوکہہ سکتاہے۔کورٹ نے کہا کہ قانون Xاور Yکے معاملے میں الگ الگ نہیں ہوسکتا۔کورٹ نے پوچھا کہ اس کیس میں مجسٹریٹ نے کیسے پولیس سے رپورٹ طلب کئے۔تاہم مہاراشٹر حکومت کی جانب سے تشار مہتہ نے دلیل دی کہ قانونی مجسٹریٹ اس طرح کے معاملات میں پولیس کو تفتیش کیلئے کہہ سکتے ہیں۔راہل گاندھی کی جانب سے کپل سبل نے مہاراشٹر حکومت کے وکیل کو کہا کہ یہ پرائیویٹ شکایت ہے، اس میں حکومت کا کوئی کام نہیں ہے۔اگلی سماعت 23اگست کو ہوگی۔مہاتما گاندھی کے قتل میں آر ایس ایس کے لوگوں کا ہاتھ بتانے والے بیان پر راہل گاندھی کے خلاف مجرمانہ ہتک عزتی کے معاملے میں سپریم کورٹ میں سماعت ہو رہی ہے۔پچھلی سماعت میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ناتھورام گوڈسے نے گاندھی جی کو مارا۔RSSکے لوگوں نے گاندھی جی کو مارا، ان دونوں باتوں میں بہت فرق ہے۔جب آپ کسی شخص خاص کے بارے میں بولتے ہیں تو محتاط رہنا چاہئے۔آپ کو کسی کی اجتماعی طورپرمذمت نہیں کرسکتے۔ہم صرف یہ تحقیقات کر رہے ہیں کہ راہل گاندھی نے جو بیان دیے کیا وہ ہتک عزتی کے دائرے میں ہیں یانہیں۔تاہم عدالت نے کہا تھا کہ آپ کو کیس میں ٹرائل سامنے کرناچاہئے۔سپریم کورٹ کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کی درخواست پر سماعت کر رہا ہے۔راہل گاندھی نے اپنے خلاف مہاراشٹر کی ایک نچلی عدالت چل رہے مجرمانہ ہتک عزتی سے منسلک ایک معاملے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیاہے۔سپریم کورٹ نے نچلی عدالت کے سمن پرروک لگارکھی ہے۔اس سے پہلے وہ کورٹ کی معافی مانگنے کی تجویز کو ٹھکرا چکے ہیں۔راہل کی جانب سے دلیل دی گئی کہ انہوں نے جو کہاوہ مہاتماگاندھی کے قتل کے مقدمے پرمبنی ہے۔


Share: